Bug Vanquisher

10 July 2007

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

Filed under: Decontamination, Personal, Rant vs Vent — Tanveer Badar @ 9:09 AM

[Disclaimer: Whatever I say in this article is purely my own opinion. No one else on earth should be accountable for them if ever the need arises.]

آج صبح سے اسلام آباد میں ‘اسلام’ کے نام پر جو کھیل جاری ہے امید ہے کہ بہت سے افراد نے دیکھا ہوگا- جو ہوا اور جو ہو رہا ہے دونوں برے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ہم جو کر رہے ہیں وہ کس حد تک درست ہے- کیا مہذب دنیا میں یہی ہوتا ہے کہ جو ہم سے متفق نہ ہو اسے ہم صفحہء ہستی سے مٹا دیں- ایک دفعہ اگر یہ مان بھی لیا جاۓ کہ جو کچھـ غازی عبدالرشید نے کیا وہ غلط تھا تو کیا وہ اس سلوک کہ مستحق ٹھہرتے ہیں؟

اگر ہم اپنی تاریخ کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آۓ گی کہ ہم نے اس سے بڑے بڑے مجرموں کو معافی دی ہے- ہمارے نوے کی دہائی کے سارے سیاست دان آج ملک سے باہر ہیں اور کسی نے ان کے خلاف کچھـ نہ کیا حالانکہ جرم ثابت بھی ہو چکے ہیں ـ لیاقت علی خان کو شہید کیا گیا، سزا وار کون ہوا؟ ضیاءالحق کا طیارہ گرا، ہم تے کس کو پکڑا؟ مرتضی بھٹو مرا، پیپلز پارٹی نے کس کو مجرم ٹھہرایا؟

اپنے ملک کو چھوڑیں(جس سے مثال دیتے شرم آۓ)، تاریخ اٹھا کر دیکھـ لیں، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس شخص کو معاف کر دیا تھا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کر دیا تھا، بس اتنا کہا تھا کہ تم میرے سامنے نہ انا، تمہیں دیکھـ کر مجھے وہ یاد آجاتے ہیں ـ 

غلطیاں ہر دور میں ہوئی ہیں اور ہر کسی سے ہوئی ہیں-ایسا کوئي نہیں جو فطرت انسانی سے مبرا ہو، گر ہوتا تو فرشتہ کہلاتا انسان نہ ہوتاـ غلطی تو مسلمانوں سے غزوہء احد میں بھی ہوئی تھی اور ایسی تھی کہ مدد خدا نہ ہوتی، جذبہء ایمانی نہ ہوتا تو کوئی نام لیوا نا بچتا-مگر کیا اس غلطی کے بعد ذمہ داروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا؟

معاشرتی نقطہء نظر سے بھی مجھے تو کوئي غلط بات نہ ملی- اگر کسی طوائف کا اڈا بند کرا دیا تو کیا غلط کیا؟ فحاشی کے ذرائع بند ہو گۓ تو کس کو موت آ گئی؟ مساجد منہدم کرانے پر کوئی احتجاج کرے تو آج کے پاکستان میں اس کا یہ حشر ہوتا ہے- جو ملک اسلام کے تام پر حاصل کیا گیا تھا آج وہاں اسلام کا نام لینے والوں کی زندگی اجیرن کی جا رہی ہے- صدر صاحب کی دلی خواہشوں میں سے ایک پاکستان کو ترکی کے نقش قدم پر چلانا ہے، یعنی بے دینی، بے راہ روی اور آوارگی کی راہ اختیار کرنا- جس طرح کمال اتا ترک نے ترکی کو لادین بنا دیا، آج وہاں اسلام کیا کسی مذہب کی بھی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، وہی حال ہماری حکومت ہمارا کرتے چلی ہےـ

صدر صاحب کی کتاب پڑھیں تو پتا چلتا ہے کہ ان کی تربیت میں یے دینی کا کتنا بڑا ہاتھـ ہے، انکو اپنی دلی خواہش کو تو لوگوں کے اعتراض پر واضح کرنا پڑا تھا، مگر جو قلم لکھـ چکا اس کو کوئي ذہنوں سے نہیں مٹا سکتاـ  ہم نے اپنی زندگی کا مقصد اغیار کی خشنودی بنا لیا ہے، جو ہم پر مسلط ہیں انہیں خوف خدا نہیں، ہر صحیح غلط جائز ہے کیوں کہ کر سکتے ہیں ـ

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Blog at WordPress.com.

%d bloggers like this: