Bug Vanquisher

9 May 2007

مقدور ہو تو ساتھـ رکھوں نوحہ گر کو میں

Filed under: Fun, Personal — Tanveer Badar @ 10:29 PM

آللہ نے اسے بنایا، پہلے ہمیں بنایا، جانے کس چیز کی سزا دی کہ دونوں کو ایک ساتھـ‏‌ اس جہاں میں بھیج دیا- اگر الگ رکھتا تو وہ تو نہ بھگتنا پڑتا جو ستم ہفتہ میں دس دفعہ ہوتا ہے- پانچ دفعہ صبح کے وقت اور پانچ دفعہ شام کو- نکلے بھی اس کی وجہ سے تھے، ایک اپنے ساتھ چار کو لے بھی جاۓ گی-

مابدولت کی نازک سی جان اپنے حصے کی روزی (انگریزی والی نہیں، اگلے کئی تک سال ایسا کوئی حادثہ نہیں ہونے والا) کمانے نکلتی ہے- بس میں وہ بھی ساتھـ ہوتی ہیں اور تھوک کے بھاؤ ہوتی ہیں، جی ہاں صحیح سمجھے، بچیاں، لڑکیاں اور عورتیں- ہر اسٹاپ پر چند چڑھتی ہیں، چند اترتی ہیں اور میرا خون کھولا جاتی ہیں- اب اس کا کیا کیا جاۓ کہ ہر چیز میں مرد عورت برابر مگر بسوں میں چڑھیں گی تو پوری بس نواب زادی کے انتظار میں رکے- اتریں تو ‘ہاۓ اللہ’، چڑھیں تو جان نکلے- ارے بھائی اگر اتنا ہی شوق ہے تو اپنے چونچلے تو چاردیواری کے اندر چھوڑ آؤ-

جاتے وقت پہنچنے کی جلدی، آتے وقت آنے کی، ایسے میں ہر جگہ گاڑیوں کا اژدہام- ہر اسٹاپ پر نازک مزاجی کا مظاہرہ بھی ضرور ہوگا- ڈرائیور سے بھی بھائی کا رشتہ قائم کرنا ہے، ساتھـ جو بچوں کی فوج ہے وہ بھی نہ کھوۓ- چار دمیں جو چھوٹی بہن یا دوست کے نام پر ساتھ لٹک گئی ہیں ان کی بھی ناز برداریاں- بس بھی اپنی پسند کی جگہ رکوائیں گی اور جب تک دفع نہ ہو گئیں، یا اندر نہ آگئیں رکنا بھی ضروری ہے- جی تو چاہتا ہے کہ آگے جا کر ایک لات ماروں، اب اترو بھی، دوسروں کا وقت تو نہ برباد ہو-

شاہراہ فیصل پر جناح اسپتال کا سگنل دس منٹ بند ہوتا ہے، ایک منٹ کیلۓ کھلا، انجن اسٹارٹ بھی نہ ہوا تھا کہ پھر بند، ایسے میں اگر کسی عورت کو بھی اترنا یا چڑھنا ہے تو سمجھ لیجیے کہ یہ دس منٹ، آدھا گھنٹہ بن گۓ ہیں- اگلا اسٹاپ ہے، NICVD، دل کی بیماریوں کا اسپتال، میرا بس چلے تو اس مخلوق کو ہی داخل کرا دوں، رہتی انسانیت احسان مانے گی- پھر آتا ہے، جناح اسپتال اور یونیورسٹی، یہاں بھی ایک غول بس کی جان چھوڑتا ہے- اول تو محترما‎ؤں کو اترنا ہی یاد نہیں رہتا، اگر اتفاق سے دماغ پر زور دے بھی لیا تو دس منٹ لگا دیں گی- آج ایک چڑھیں اور پھر ڈرائیور سے لڑنے لگیں کہ اس نے بتایا کیوں نہیں کہ وہ غلط بس میں چڑھ گئیں ہیں، یعنی قصور کس کا ہوا؟

آفس سے گھر تک کے سفر میں، جو کہ suffer بھی بن جاتا ہے، پندرہ منٹ ایسے ضائع ہوتے ہیں- اگر اختیار ہوتا تو میں عورتوں کی بسیں الگ کروا دیتا کہ اب ان میں آرام سے سوسو کر جانا- آدمیوں کی جان چھوٹتی-

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Create a free website or blog at WordPress.com.

%d bloggers like this: